Pakistani make money by selling tiddi dal (Locusts)

Pakistani make money by selling tiddi dal (Locusts)

Locusts turn the heart upside down
He lost his life:

Pakistani make money by selling tiddi dal (Locusts)

The locust infestation experiment by an organization in Okara has been very successful, they have bought locusts from people at Rs. 20 per kg and sold them to poultry and fish factories. Locust collectors have earned Rs 20,000 per person in just one night.

Now calculate that a servant can earn about six lakh rupees in thirty days. The locust flies only during the day, at night it gathers in clusters on trees or on the ground and is numb and motionless, so it is very easy to catch and collect in bags.

Pakistan imports soybeans from the United States, whose oil is extracted and then bought by chicken feed companies. Soybean meal has a protein content of 45% while locusts have a protein content of 70% which will be a very nutritious food for chickens and fish.

The use of locusts instead of soybeans for poultry feed will also save foreign exchange. Combining the cost of making locusts for powder and making powder for chicken feed, the total cost is Rs. 30 per kg which is Rs. 90 per soybean. Kilo is much less than the price …

This is a great opportunity for the unemployed to earn a decent income due to the crisis in Corona. It will also support the economy, provide employment to the people, save crops and save foreign exchange. , Poultry feed makers will have access to cheap raw materials …

The government will help save the cost of spraying pesticide chemicals to kill locusts and also protect the environment from the effects of these toxic chemicals. The government should immediately implement this plan with the help of the district administration.

What will the locust heart remember about which nation I have fallen into? On the one hand, this nation is scattered due to the lockdown from above, which is now behind the locust heart. The locust heart is worried about saving its life instead of eating the crop.

 

ٹڈی دل کو الٹا
اپنی جان کے لالے پڑ گئے:

اوکاڑہ میں ایک تنظیم کی طرف سے ٹڈی کے تدارک کا تجربہ بہت کامیاب رہا ہے، انہوں نے لوگوں سے بیس روپے فی کلو کے حساب سے ٹڈیاں خرید کر مرغیوں اور مچھلیوں کی خواراک بنانے والے کارخانوں کو بیچی ہیں۔ صرف ایک رات میں ٹڈیاں اکٹھیاں کرنے والوں نے فی بندہ بیس ہزار روپے کمائے ہیں۔۔۔

اب حساب لگا لیں کہ ایک بندہ تیس دنوں میں تقریبا چھ لاکھ روپیہ کما سکتا ہے۔ ٹڈی صرف دن کو پرواز کرتی ہے، رات کے وقت یہ درختوں یا زمین پر جھنڈ کی شکل میں اکٹھا ہو جاتی ہے اور بےحس و بےحرکت ہوتی ہے لہذا اسے پکڑ کر تھیلوں میں اکٹھا کرنا بہت ہی آسان ہے۔۔۔

پاکستان امریکا سے سویابین درآمد کرتا ہے جس کا تیل نکالنے کے بعد اسکا بُھس مرغیوں کی خوراک بنانے والی کمپنیاں خریدتی ہیں۔ سویا بین کے بھس میں پروٹین کی مقدار پینتالیس فیصد ہوتی ہے جبکہ ٹڈی میں پروٹین کی مقدار ستر فیصد ہوتی ہے جو مرغیوں اور مچھلیوں کے لئے نہایت قوت بخش غذا ثابت ہو گی۔۔۔

مرغیوں کی خوراک کے لئے سویا بین کی بجائے ٹڈی کے استعمال سے زرمبادلہ کی بچت بھی ہو گی، مرغیوں کی خوراک کے لئے ٹڈی کو سکھا کر پاوڈر بنانے کا خرچہ ملا کر اسکی کل قیمت تیس روپیہ فی کلو پڑتی ہے جو سویا بین کی نوے روپے کلو قیمت سے کہیں کم ہے۔۔۔

کرونا کے بحران کی وجہ سے بیروزگار افراد کے لئے ٹھیک ٹھاک آمدنی کا یہ بہترین موقع ہے، اس سے معیشت کو بھی سہارا ملے گا، لوگوں کو روزگار بھی میسر ہو گا، فصلیں بھی نقصان سے بچیں گی، زر مبادلہ کی بچت بھی ہو گی، پولٹری فیڈ بنانے والوں کو سستا خام مال میسر ہو گا۔۔۔

ٹڈی کو تلف کرنے کے لئے حکومت کوکیڑے مار کیمیکلز اسپرے کے اخراجات بچانے میں مدد ملے گی اور ماحول کی بھی ان زہریلے کیمیکلز کے اثرات سے بچت ہو گی۔ حکومت کو چاہیئے کہ فوری طور اس منصوبے کو ضلعی انتظامیہ کی مدد سے نافذ کرے کہ اس میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔۔۔

ٹڈی دل بھی کیا یاد کرے گی کہ کس قوم کے ہتھے چڑھ گئی ھوں۔ ایک تو یہ قوم بےروزگار اوپر سے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بپھری ھوئی جو اب ٹڈی دل کے پیچھے پڑ گئی ھے۔ ٹڈی دل کو فصلیً کھانے کی بجائے اپنی جان بچانے کی فکر پڑ گئی ھے۔۔۔

Spread the love
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
trackback

[…] Via toaware […]

1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x